ساہیوال: جوڈیشل مجسٹریٹ دفعہ 30 ساہیوال، خواجہ مہد حسین نے ریجنل پاسپورٹ آفس میں مبینہ کرپشن کیس میں گرفتار اسسٹنٹ ڈائریکٹر سید مراد علی زیدی سمیت 10 ملزمان کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے تمام ملزمان کو دوبارہ 6 اگست کو پیش کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔عدالت میں پیش کیے گئے ملزمان میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر سید مراد علی زیدی کے علاوہ ایجنٹ عمر فاروق، طلحہ عثمانی، عبدالجبار نعیم، طلحہ حسین، طلحہ خان، محمد ارشاد، محمد اسماعیل شاکر، مبارک علی اور غلام دستگیر شامل ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) ساہیوال کی ٹیم نے ریجنل پاسپورٹ آفس میں چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے مبینہ کرپشن کے ایک منظم نیٹ ورک کا سراغ لگایا تھا۔ کارروائی کے دوران ابتدائی مرحلے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر سمیت 10 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ایف آئی اے کے مطابق اس نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے دیگر ملزمان، جن میں اسپیشل برانچ کے اہلکار طاہر حسین اور سجاد حسین، ایجنٹ اعجاز قادری، سکیورٹی گارڈ عبدالوہاب اور سویپر سیموئیل شامل ہیں، تاحال گرفتار نہیں ہو سکے۔
ایف آئی اے نے رانا محمد مستحسن، ایس ایچ او کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا ہے، جس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 109، 161، 162 اور انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 5(2)47 کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے مبینہ طور پر انکشاف کیا کہ پاسپورٹ درخواست گزاروں سے سرکاری فیس کے علاوہ 1,000 سے 5,000 روپے تک غیر قانونی رقم وصول کی جاتی تھی۔ اس رقم کے عوض درخواست گزاروں کو مقررہ طریقہ کار اور قطار کو نظر انداز کرتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر پاسپورٹ بنوانے کی سہولت فراہم کی جاتی تھی، جبکہ بعض درخواستوں پر غیر ضروری اعتراضات بھی عائد کیے جاتے تھے۔ایف آئی اے کی جانب سے مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔