پاکستان میں گھڑیاں آدھا گھنٹہ آگے کرنے کا فیصلہ؟ حقیقت کیا ہے؟

1

اسلام آباد: پاکستان میں تمام گھڑیاں آدھا گھنٹہ آگے کرنے سے متعلق سامنے آنے والی خبر نے شہریوں میں تشویش اور غلط فہمی پیدا کر دی ہے، تاہم اصل معاملہ روزمرہ زندگی میں وقت کی تبدیلی کا نہیں بلکہ ایک پرانے قانونی تضاد کو دور کرنے کا ہے۔دستیاب تفصیلات کے مطابق پاکستان میں گھڑیاں آدھا گھنٹہ آگے کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی شہریوں کو اپنے موبائل فون، گھڑیوں یا دیگر آلات میں وقت تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا موجودہ معیاری وقت بدستور GMT+5 ہی رہے گا۔

اصل معاملہ کیا ہے؟

اس معاملے کی بنیاد پاکستان کے ایک پرانے قانون میں موجود وقت کے تعین سے متعلق شق ہے۔ 1943ء کے Standard Time سے متعلق قانون میں پاکستان کے وقت کو گرین وچ مین ٹائم (GMT) سے 5 گھنٹے 30 منٹ آگے (GMT+5:30) درج کیا گیا تھا۔بعد ازاں پاکستان نے 1951ء میں اپنے معیاری وقت میں تبدیلی کرتے ہوئے GMT سے 5 گھنٹے آگے (GMT+5) کا وقت اختیار کر لیا۔ اس کے بعد سے عملی طور پر پورے ملک میں یہی وقت رائج ہے اور سرکاری، تعلیمی، کاروباری اور روزمرہ سرگرمیاں اسی معیاری وقت کے مطابق انجام دی جاتی ہیں۔

پھر آدھے گھنٹے والی بات کہاں سے آئی؟

مسئلہ یہ تھا کہ اگرچہ ملک میں کئی دہائیوں سے GMT+5 نافذ العمل ہے، لیکن پرانے قانونی متن میں وقت کے حوالے سے ساڑھے پانچ گھنٹے کا ذکر موجود رہا۔

یعنی عملی طور پر پاکستان کا وقت ایک تھا، جبکہ پرانی قانونی دستاویز میں وقت کا حوالہ کچھ اور درج تھا۔ یہی صورتحال ایک قانونی تضاد یا Discrepancy کا باعث بن رہی تھی۔

اس تضاد کو ختم کرنے کے لیے قانون میں ترمیم کی گئی، تاکہ قانونی ریکارڈ میں بھی وہی وقت درج ہو جو پاکستان میں عملی طور پر کئی دہائیوں سے نافذ ہے۔

ترمیم کے بعد کیا تبدیلی آئے گی؟

قانونی ترمیم کے نتیجے میں پرانے قانونی متن میں موجود GMT+5:30 کی جگہ GMT+5 کو باضابطہ طور پر درج کر دیا گیا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کا وقت مزید آدھا گھنٹہ آگے کیا جا رہا ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قانونی دستاویز کو موجودہ عملی نظام کے مطابق درست کیا جا رہا ہے۔

کیا موبائل اور گھڑیوں کا وقت تبدیل کرنا ہوگا؟

نہیں، بالکل نہیں۔

پاکستان میں موجودہ وقت پہلے ہی GMT+5 ہے۔ اس قانونی ترمیم کے بعد بھی یہی وقت برقرار رہے گا۔لہذاٰ پاکستانی عوام کو موبائل فون کا وقت تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں۔ گھڑیوں کو آدھا گھنٹہ آگے کرنے کی بھی ضرورت نہیں اور نہ کمپیوٹر، لیپ ٹاپ یا دیگر آلات میں کوئی تبدیلی درکار ہے۔
دفاتر اور کاروباری اداروں کے اوقات کار پر کوئی نئی تبدیلی لاگو نہیں ہوگی۔ اسکول، کالجز، جامعات اور دیگر اداروں کے معمولات بھی اس ترمیم سے متاثر نہیں ہوں گے۔

عام شہری کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟

عام شہری کے لیے اس خبر کا عملی طور پر کوئی نیا اثر نہیں ہے۔پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے GMT+5 کے مطابق وقت استعمال کر رہا ہے اور قانونی ترمیم کے بعد بھی یہی نظام جاری رہے گا۔

لہٰذا اگر کسی خبر یا سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ “پاکستان میں تمام گھڑیاں آدھا گھنٹہ آگے کی جائیں گی” تو اسے درست تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں وقت تبدیل نہیں کیا جا رہا۔ معاملہ ایک دہائیوں پرانے قانونی تضاد کی اصلاح کا ہے۔

1943ء کے پرانے قانونی متن میں GMT+5:30 درج تھا، جبکہ 1951ء سے عملی طور پر پاکستان GMT+5 استعمال کر رہا ہے۔ اب قانونی ترمیم کے ذریعے اس پرانے متن کو بھی موجودہ عملی وقت کے مطابق GMT+5 کر دیا گیا ہے۔یعنی گھڑیاں وہیں رہیں گی، وقت وہی رہے گا، صرف قانون کی کتاب میں موجود پرانی عبارت درست کی گئی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں