ایک رمتا جوگی بیوروکریٹ ——– تحریر : ڈاکٹر ریاض ہمدانی

15

ایک رمتا جوگی بیوروکریٹ

تحریر : ڈاکٹر ریاض ہمدانی

ڈاکٹر ریااض ہمدانی،ڈائریکٹر آرٹس کونسل ساہیوال
ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی ۔ایڈیشنل کمشنر کوارڈینیشن ، ساہیوال

جب ایک ہی وجود میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر، پی ایم ایس افسر، کالم نگار اور جھنگ کا رمتا جوگی اکٹھے ہو جائیں تو ایڈمنسٹریشن کے خشک دالان میں ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی جنم لیتے ہیں۔ بھٹی صاحب کی ذات سے جھنگ اور پنجاب کا کلچر نکالنا، ان کے جسم سے سانسیں نکالنے کے مترادف ہے۔
ان کی چال ڈھال کو پہلی نظر میں دیکھیں تو اچھے اچھوں کے طوطے اڑ جائیں۔ شلوار قمیض، پرفیکٹ میچنگ ویسکوٹ ، پاؤں میں کھیڑی اور دبدبہ ایسا کہ بندہ سمجھے سامنے سولہ مربعے کا کوئی پکا فیوڈل کھڑا ہے۔ آخر کو ذات کے بھٹی ہیں اور بھٹیوں کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ اگر بیوروکریٹ بن بھی جائیں تو ان کے اندر کا راجپوت کمشنر کی کرسی کو بھی اپنے دادا کا ڈیرہ سمجھ کر بیٹھتا ہے۔ خاص طور پر جب وہ اپنے مخصوص سانولے رنگ اور رعب دار چال کے ساتھ اچانک ہسپتالوں کے دورے پر نکلتے ہیں، تو دور سے آتے ہوئے کسی کلاسک فلم کے تگڑے ‘ولن’ کا گمان ہوتا ہے جنہیں دیکھ کر عملے کے دل ایسے دھڑکنے لگتے ہیں جیسے فلم کا آخری سین چل رہا ہو۔ رعب ایسا کہ ماتحت فائلیں چھپائیں اور سائلین راستے بدلیں… مگر یہ جاگیردارانہ اور افسرانہ جاہ و جلال صرف اس وقت تک ہے جب تک ڈاکٹر صاحب خاموش رہیں۔ جیسے ہی وہ لب کشائی کرتے ہیں، سارا رعب ایک سیکنڈ میں نو دو گیارہ ہو جاتا ہے اور سامنے والا خود کو افسر کے دفتر میں نہیں، جھنگ کے کسی دیسی ڈیرے پر پاتا ہے۔
وہ جھنگ کی اس مٹی سے گندھے ہیں جہاں پانی کی جگہ جگتیں ابلتی ہیں۔ ان کی زبان پر جگتوں اور لطیفوں کی ایسی ‘نان سٹاپ’ ایکسپریس چلتی ہے جس میں بریک نام کا کوئی پرزہ ہی موجود نہیں۔ وہ جملہ اتنی نفاست اور کاٹ سے مارتے ہیں کہ اگلا بندہ وہیں ڈھیر ہو جائے، مگر مجال ہے جو ڈاکٹر صاحب کے اپنے چہرے کا زاویہ بدلے۔ مزاج ایسا عوامی اور کھرپینٹ ہے کہ بات چنگی ہووے یا ماڑی، یہ نہیں دیکھتے کہ سامنے کون ہے، بس منہ پر کھڑکا دیتے ہیں۔ بیوروکریسی کی بناوٹ سے پاک، ان کا یہی بے باک انداز ہر محفل کو کشت زعفران بنا دیتا ہے۔
دوران گفتگو ان کی ایک حرکت باقاعدہ پی ایچ ڈی کی متقاضی ہے۔ بات کرتے کرتے اچانک ان کا ہاتھ سر پر جائے گا اور وہ ایک دو بالوں کو انگلی میں مروڑنا شروع کر دیں گے۔ انہیں دیکھ کر لگتا ہے جیسے وہ کسی پرانے سکوٹر کو کک مار کر اس کا انجن گرم کر رہے ہوں، یا کھوپڑی کے اندر سے کوئی بالکل نئی جگت کھینچ کر باہر لا رہے ہوں۔

 

 

Advertisement
Advertisement

مگر بھٹی صاحب صرف جگت باز نہیں، اندر سے ایک پکے کتاب دوست اور مطالعے کے باقاعدہ ‘ٹھرکی’ ہیں۔ کتاب دیکھ کر ان کی نیت ایسے ڈولتی ہے جیسے زاہد کی رندوں کو دیکھ کر۔ یہی وجہ ہے کہ وہ گفتگو میں اچانک جگت سے نکل کر وحدت، فلسفے اور مذہبی تبلیغ کا ایسا تانا بانا بنتے ہیں کہ سننے والا اش اش کر اٹھتا ہے۔ اندر سے وہ کٹر مذہبی ہیں مگر انہوں نے کبھی اس جذبے کو نمائش کی نذر نہیں ہونے دیا۔ وہ شریعت کی بات بھی طریقت کے ایسے لبادے میں کرتے ہیں کہ سامنے والے کو گناہ کا احساس بھی ہو جاتا ہے اور وہ برا بھی نہیں مانتا۔

ان کا یہ علم اور بالوں کا مروڑا سیدھا ان کی کالم نگاری سے جا کر جڑتا ہے۔ کالم لکھنا ان کا شوق نہیں، ایک ایسی لت ہے کہ اگر دن میں ایک آدھ کالم نہ گھسیٹ لیں تو انہیں رات کو نیند نہیں آتی۔ ان کے کالموں کی دنیا بھی الگ ہی راگ الاپتی ہے۔ وہ ہم قافیہ اور مترادف الفاظ کے ایسے گورکھ دھندے لاتے ہیں کہ قاری سر پکڑ کر رہ جائے۔ بعض اوقات تو ان کا کالم پڑھنے والے کے سر کے اتنے اوپر سے گزر جاتا ہے کہ نیچے صرف حیرت کھڑی رہ جاتی ہے۔
ان کالموں کا سب سے تیکھا اور نفسیاتی پہلو ان کی بیگم کا تذکرہ ہے۔ ہر چوتھے کالم میں بیوی کا ذکر اس معصومانہ حسرت کے ساتھ کرتے ہیں جیسے بھٹی صاحب اب بھی کسی ‘آئندہ شادی’ کے سنہرے خواب دیکھ رہے ہوں اور اس دلی خواہش کو مزاح کے پردے میں چھپا کر دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہوں۔
ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر جب پی ایم ایس افسر بن کر ساہیوال میں ایڈیشنل کمشنر کی کرسی پر بیٹھتا ہے تو وہ مریضوں کی نبض کے ساتھ ساتھ فائلوں کا مزاج بھی مقامی رہتل اور فلسفے سے درست کرتا ہے۔ بھٹی صاحب افسری، علم، رہبری اور قلم کا ایک ایسا خوبصورت، بے باک اور زندہ دل امتزاج ہیں جو عزت و احترام کے دائرے میں رہ کر بھی ہر محفل کو اپنے قہقہوں سے لوٹ لیتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں