Home / صحت / نوجوان نسل میں بڑھتا ڈپریشن، وجوہات اور علاج
Sahiwal Medical College Main Gate

نوجوان نسل میں بڑھتا ڈپریشن، وجوہات اور علاج

تحریر : خاور نیازی

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت نوجوانوں کی تعداد ملکی آبادی کے 64 فیصد پر مشتمل ہے۔

جبکہ ماہرین نفسیات کے مطابق دنیا میں تیزی سے پھیلتا ڈپریشن کا مرض دوسرے طبقے سے کہیں زیادہ نوجوانوں کو لاحق ہے۔

عالمی اداروں نے اپنی رپورٹ میں اقوام عالم کو خبردار کیا ہے کہ 2011 کے بعد 18 سال سے 30 سال کی عمر کے نوجوانوں میں اس مرض کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ابھی کچھ عرصہ پہلے آغا کریم خان یونیورسٹی کراچی نے اپنے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ڈپریشن اور اینگزائٹی پاکستان میں تیزی سے پھیلنے والے امراض کی فہرست میں شامل ایک ایسا مرض ہے جس کا سب سے زیادہ شکار نوجوان نسل ہے۔

اس سے پہلے کہ اس موضوع کو لے کر آگے بڑھایا جائے یہ جاننا اہم ہوگا کہ ڈپریشن درحقیقت ہے کیا۔

ماہرین نفسیات ڈپریشن کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ اگر آپ کا دل روز مرہ کے کاموں میں نہیں لگتا، آپ ہر وقت اداس، مایوسی اور بے زار رہنے لگ گئے ہیں یا گھبراہٹ بے چینی اور بے بسی محسوس کرنے لگے ہیں۔ آپ کو منفی سوچوں نے گھیر رکھا ہے، آپ محسوس کرتے ہیں کہ دوسرے آپ سے آگے نکل گئے ہیں اور آپ پیچھے رہ گئے ہیں تو پھر شاید آپ ڈپریشن کا شکار ہیں۔

جہاں تک ڈپریشن کی علامات کا تعلق ہے تو مندرجہ بالا علامات کے علاوہ اگر کسی کو ٹھیک طریقے سے نیند نہ آرہی ہو، وزن مسلسل کم ہو رہا ہو، بھوک غائب ہو چکی ہو، قوت فیصلہ پر قابو نہ ہو اور یادداشت بھی متاثر ہو رہی ہو تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ڈپریشن کے مرض میں مبتلا ہو چکا ہے۔

اگر یہ کیفیت طول پکڑ لے تو متاثرہ شخص زندگی سے بیزار ہوجاتا ہے اس کی اس کیفیت کو طبی زبان میں کلینکل ڈپریشن کہتے ہیں۔

لیکن یہاں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ لوگوں کی ایک کثیر تعداد ڈپریشن کو بیماری تسلیم ہی نہیں کرتی جبکہ عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 28 کروڑ سے زائد افراد اس مرض کا شکار ہیں۔

دنیا کا ہر تیسرا شخص کسی نہ کسی طور پر ڈپریشن کا شکار ہے جبکہ دنیا بھر میں سالانہ تقریبا آٹھ لاکھ افراد ذہنی دباؤ کی وجہ سے خودکشی کر لیتے ہیں۔

علاوہ ازیں تقریبا بیس فیصد لوگ ڈپریشن کے باعث دیگر نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اگر پاکستان کی بات کی جائے تو ایک تحقیق کے مطابق ہر چوتھے گھر میں ذہنی مرض میں مبتلا ایک شخص موجود ہے۔

ڈپریشن کی وجوہات

ڈپریشن ایک ایسا مرض ہے جس کی وجوہات کا صحیح طور پہ احاطہ ممکن ہی نہیں۔

جبکہ اکثر کیسوں میں دیکھنے میں آتا ہے کہ اس مرض میں ایک سے زیادہ علامات پائی جاتی ہے۔ چند ایک درج ذیل ہیں۔

1۔ موروثیت

ماہر نفسیات کے متفقہ رائے ہے کہ ڈپریشن کی بڑی وجہ موروثیت بھی ہو سکتی ہے۔ یہ بیماری بعض اوقات خاندانوں میں نسل در نسل منتقل ہو کر پنجے گاڑ چکی ہوتی ہے۔

مثلا اگر آپ کے والدین میں سے کسی ایک کو ڈپریشن کا مرض ہے تو آپ کو اس مرض کا خطرہ دوسروں کی نسبت آٹھ گنا زیادہ ہو سکتا ہے۔

2۔ گردو پیش کے حالات

بعض اوقات کچھ تکلیف دہ واقعات مثلا کسی قریبی عزیز کی اچانک وفات کی خبر، طلاق، نوکری سے برخاستگی، پرتشدد واقعات، سانحات، اچانک کسی مالی یا جانی نقصان کی وجہ سے بھی ڈپریشن کا مرض جنم لے سکتا ہے۔

3۔ تنہائی

طویل عرصے کی تنہائی آپ کو ڈپریشن کے قریب لے جاتی ہے۔ اگر آپ تنہا ہوں، آپ کے آس پاس کوئی نہ ہو اور آپ کسی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار ہوں یا بہت زیادہ جسمانی تھکن کا شکار ہوں تو ان صورتوں میں ڈپریشن کی بیماری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

4۔ موسمی تبدیلی کے اثرات

بعض لوگوں کا مزاج موسموں سے اگر مطابقت نہ رکھتا ہو تو وہ کسی بھی موسم کی خلاف معمول تبدیلی مثلا گرمیوں میں گرمی کی زیادتی یا سردیوں میں سردی کی شدت پر اداس ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی دراصل ڈپریشن کی ایک قسم ہے جسے طب کی زبان میں سیزنل ڈپریشن کہتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہر سال 20 فیصد تک لوگ اس بیماری سے متاثر ہوتے رہتے ہیں۔

والدین کیا کر سکتے ہیں؟

جہاں تک بچوں اور نوجوانوں کا اس بیماری سے متاثر ہونے کا معاملہ ہے اس سے بچاؤ میں والدین اپنا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

بدقسمتی سے اس مشینی دور میں والدین بچوں کو توجہ اور وقت نہیں دے سکتے جو ان کی تربیت کے لیے لازمی ہے۔

ڈپریشن کے حوالے سے ایک امریکی ماہر نفسیات کہتے ہیں اگر بچوں کو بری صحبت اور ڈپریشن سے بچانا ہے تو اپنی نظریں بچوں پر اس فٹ بالر کی طرح گاڑے رکھیں جو ایک لمحہ کو بھی اپنی نظریں بال سے ہٹاتا ہے تو اد کا نتیجہ کچھ سے کچھ ہو سکتا ہے۔

ایک اور ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ ڈپریشن ایک ایسا مرض ہے جس کا بہت حد تک علاج آپ کے گھر سے شروع ہوکر گھر پر ہی ختم ہو سکتا ہے۔

والدین کو چاہیے اگر وہ محسوس کریں کہ ان کے بچے میں کوئی غیر معمولی تبدیلی یا خلاف توقع تبدیلی پیدا ہو رہی ہے تو اس بات کا بروقت نوٹس لینا چاہیے۔

کیونکہ عین ممکن ہے اگر بچہ ڈپریشن میں مبتلا ہو رہا ہے تو شاید صحیح طریقے سے اپنے احساسات کا اظہار نہ کر سکے۔

والدین کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ڈپریشن کے دوران نوجوانوں کا ردعمل بڑوں سے یکسر مختلف ہوتا ہے۔

اس دوران ممکن ہے کہ وہ کھانا کم کر دے یا بالکل ختم کر دے، یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ایک دم سے زیادہ کھانے لگ جائے، لوگوں سے میل ملاپ ختم کردے۔ بہت کم سونے لگے یا بہت زیادہ دیر تک جاگنا شروع کر دے۔

یہ وہ علامات ہیں جنہیں والدین کو ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان علامات پر گہری نظر رکھنی ہوگی۔ اگر یہ علامات ہفتوں برقرار رہتی ہیں تو آپ کو فوری طور پر اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرنا ہو گا۔ اس کے ساتھ بچے کی خوارک بہتر کرنا ہو گی اور معمولات زندگی میں اس کو مائل کرنا ہو گا۔

ایڈیٹر ارشد فاروق

ارشد فاروق بٹ کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ ساہیوال ٹائمز پر آپ خبروں کی کیٹیگری اپڈیٹ کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔