Home / خبریں / چیچہ وطنی : ادیبہ مبارک کیس، کب کیا ہوا ؟
Adeeba Mubarak

چیچہ وطنی : ادیبہ مبارک کیس، کب کیا ہوا ؟

تحریر : ارشد فاروق بٹ

ایک لمحے کے لیے چشم تصور میں جھانک کر اپنی بیٹی کو سامنے رکھیے اور ان والدین کے دکھ کا اندازہ لگائیے جن کی 6 سالہ بچی کو گم ہوئے سال ہونے کو ہے.

چیچہ وطنی کے نواحی گاؤں 110 سیون آر میں 6 سالہ ادیبہ مبارک انصاری کو گم ہوئے 9 ماہ گزر چکے ہیں. بظاہر یہ کیس مقامی پولیس نے داخل دفتر کر دیا ہے. تاہم ننھی ادیبہ کے والدین کو اب بھی یقین ہے کہ ان کی گمشدہ بیٹی انہیں ضرور واپس ملے گی. اس کیس میں کب کیا ہوا، آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں.

ادیبہ مبارک جس نے سرخ رنگ کی شلوار قمیض پہن رکھی تھی، 22 نومبر 2021 کی شام گھر سے گرم انڈے فروخت کرنے والے کی آواز سن کر انڈہ خریدنے کے لیے نکلی. لیکن واپس نہ آئی. کچھ دیر بعد گاؤں میں تلاش کا سلسہ شروع ہوا جو مسجد میں اعلانات سے ہوتا ہوا چیچہ وطنی پولیس تک پہنچا. ڈی پی او ساہیوال کی ہدایت پر صدر پولیس تھانہ چیچہ وطنی نے 23 نومبر کو مقدمہ درج کرکے لاپتہ لڑکی کی تلاش کے لیے چار ٹیمیں تشکیل دیں جو تاحال ناکام ہیں۔

Adeeba Mubarak

ضلع ساہیوال کی پہلی رجسٹرڈ سیاسی جماعت تحریک احساس پاکستان نے ادیبہ مبارک کی عدم بازیابی کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا. احتجاجی ریلیاں شہر کے مختلف علاقوں سے ہوتی ہوئی بابا فرید گیٹ پہنچیں جہاں جلسہ عام میں ادیبہ مبارک کے والد نے بھی شرکت کی. پولیس بچی کو تو بازیاب نہ کرا سکی تاہم تحریک احساس کے کارکنان پہ ساؤنڈ ایکٹ کی خلاف ورزی پر مقدمہ درج کر کے احتجاجی آواز کو دبانے کی دانستہ کوشش کی گئی.

3 دسمبر 2021 کو ایس پی انویسٹی گیشن ساہیوال شاہدہ نورین ادیبہ مبارک کے گھر پہنچیں. معصوم بچی کے والدین کو تسلی دینے کے بعد انہوں نے کہا کہ پولیس معصوم لاپتہ بچی کی بازیابی کے لیے دن رات کوشاں ہے۔ اس موقع پر ڈی ایس پی رانا اکمل رسول نادر، ایس ایچ او تھانہ صدر جہانزیب وٹو اور معززین علاقہ کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

SP Investigation

10 دسمبر کو ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ساہیوال صادق بلوچ ادیبہ مبارک کے گھر پہنچے اور اس کے والدین سے ملاقات کی۔ ڈی پی او ساہیوال نے لاپتہ لڑکی کے والد مبارک علی کو یقین دلایا کہ وہ اس درد کو محسوس کر سکتے ہیں جس کا خاندان کو سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس لاپتہ لڑکی کی بازیابی کے لیے مختلف ٹیموں کے ساتھ کام کر رہی ہے اور وہ روزانہ کی بنیاد پر ٹیموں کی نگرانی کر رہے ہیں اور ان کی پیش رفت کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انشاء اللہ جلد ادیبہ کی بازیابی کو یقینی بنا کر ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے گی۔

dpo sahiwal

11 دسمبر 2021 کو ادیبہ مبارک کے والد مبارک علی نے آر پی او ساہیوال کی کھلی کچہری میں شرکت کی اور بچی کی بازیابی کا مطالبہ کیا. آر پی او ساہیوال کی جانب سے بچی کو جلد ڈھونڈنے کی یقین دہانی کرائی گئی.

21 دسمبر 2021 کو چیئرمین روشنی ہیلپ لائن کراچی محمد علی اور زینب انصاری شہید (قصور) کے والد محمد امین انصاری نے گاؤں 110 سیون آر میں لاپتہ ہونے والی ادیبہ مبارک کے گھر جا کر معصوم بچی کے والدین سے ملاقات کی اور انہیں تسلی دی۔

چیئرمین روشنی ہیلپ لائن کراچی اور زینب شہید کے والد حاجی محمد امین انصاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ لاپتہ بچوں کی تلاش کے لیے کام کرتے ہیں، اور اہل خانہ کی مدد کے لیے کراچی سے آئے ہیں۔

"ہم نے دیکھا ہے کہ ادیبہ مبارک کے والدین کی حالت بہت خراب ہے۔ ادیبہ مبارک کا کیس چیچہ وطنی پولیس کے لیے چیلنج ہے۔ لڑکی کے ملنے تک خاندان تباہی کے دہانے پر ہے۔ کسی سیاستدان، امیر یا تاجر کی بیٹی لاپتہ ہو جائے تو اس کی بازیابی کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اسے زمین سے نکالا جاتا ہے۔ ہمیں ادیبہ مبارک کو اپنی بیٹی سمجھنا چاہیے۔ ادیبہ ہماری بیٹی ہے، پوری قوم کی بیٹی ہے.”

یکم جنوری 2022 : صحافیوں نے ڈی پی او ساہیوال سے بچی کی بازیابی سے متعلق استفسار کیا جس پر ڈی پی او ساہیوال نے کہا کہ یہ ایک بلائنڈ کیس ہے.

28 جنوری 2022 کو تحریک احساس پاکستان کی جانب سے ادیبہ مبارک کی بازیابی کے لیے ڈی پی او آفس ساہیوال میں احتجاج ریکارڈ کرایا گیا. اس موقع پر راؤ زبیر کا کہنا تھا کہ جب بھی ہم احتجاج کا اعلان کرتے ہیں پولیس گاؤں کے کچھ لوگوں کو اٹھا لاتی ہے اور گاؤں کے لوگ معصوم بچی کے والدین سے غنڈہ گردی کرتے ہیں.

18 مارچ 2022 کو تحریک احساس پاکستان کی جانب سے لاپتہ بچی ادیبہ مبارک کی بازیابی کے لیے آر پی او ساہیوال آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں ادیبہ مبارک کے والد نے بھی شرکت کی۔ چیئرمین تحریک احساس پاکستان محمد زبیر اسلم ایڈووکیٹ نے آر پی او آفس ساہیوال کے باہر دھرنے میں عوام کا کیس صاف اور دو ٹوک الفاظ میں افسران کے سامنے رکھا۔

اہلیان چیچہ وطنی اپنی پولیس سے کسی معجزے کی توقع نہیں رکھتے. تاہم وہ یہ سوال پوچھنے میں ضرور حق بجانب ہیں کہ اتنے اہم کیس کی تفتیش کے لیے کوئی جے آئی ٹی اب تک کیوں تشکیل نہ دی گئی؟ کیوں ٹیکنالوجی سے استفادہ نہیں کیا گیا؟ کیوں اس کیس کی تفتیش ایک اے ایس آئی کے سپرد کر کے اسے داخل دفتر کر دیا گیا ہے؟ کسی وزیر مشیر کی بیٹی گم ہو جاتی تو تب بھی تفتیش ایسے ہی مردہ انداز سے کی جاتی؟؟؟

ایڈیٹر ارشد فاروق

ارشد فاروق بٹ کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ ساہیوال ٹائمز پر آپ خبروں کی کیٹیگری اپڈیٹ کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔