Home / خبریں / ادیبہ مبارک کیس، کوئی سانحہ ہونے کو ہے!
Adeeba Mubarak

ادیبہ مبارک کیس، کوئی سانحہ ہونے کو ہے!

تحریر : ارشد فاروق بٹ
"ننھی کلی ادیبہ کے پاؤں میں جوتے نہیں، ننگے پاؤں گلی میں نکلی اور اٹھا لی گئی۔”

چیچہ وطنی شہر جہاں مجھ سمیت ہر شہری منافقت کے کسی نہ کسی درجے پر فائز ہے وہاں کمسن ادیبہ کو غائب ہوئے 9 ماہ گزر گئے ہیں۔

ہم اہلیان چیچہ وطنی جن کا دل اربن ایریا میں بسنے والوں کے لیے فوری غمگین ہو جاتا ہے اور گاؤں میں بسنے والوں کے دکھ ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ امیر کا کتا بھی مر جائے تو رات بھر ہمیں نیند نہیں آتی اور غریب کی کل کائنات لٹ جائے تو در دل پہ دستک تک نہیں ہوتی۔

ہماری سیاسی قیادت خاموش ہے، درجنوں چندہ خور شہری و فلاحی تنظیمیں خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہیں۔ اور پولیس روایتی انداز میں لاش کا انتظار کر رہی ہے۔

کیا ضروری ہے کہ سانحے کا انتظار کیا جائے؟ بالکل نہیں! ہم میں سے ہر ایک کو اپنے حصے کا کردار ضرور ادا کرنا چاہئے۔ مجھ سمیت وہ تمام والدین جن کو اللہ نے بیٹی کی نعمت سے نوازا ہے، گمشدہ بچی کی ماں اور باپ کا کرب بخوبی محسوس کر سکتے ہیں۔ تاہم محسوس کرنے اور خود پر بیتنے والی قیامت میں فرق ہوتا ہے۔ ایک ایک پل غریب والدین پر قیامت بن کر گزر رہا ہے۔

چیچہ وطنی پولیس چک 110 سیون آر کی 6 سالہ ادیبہ کو ڈھونڈنے میں مکمل ناکام ہو گئی ہے اور وزیراعلی پنجاب کو اب نوٹس لینا چاہیے۔ کیس داخل دفتر کر دینے والی پولیس سے سوال ہے کہ کسی وزیر مشیر کی بیٹی گم ہو جاتی تو تب بھی تفتیش ایسے ہی مردہ انداز سے کی جاتی؟؟؟

ایڈیٹر ارشد فاروق

ارشد فاروق بٹ کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ ساہیوال ٹائمز پر آپ خبروں کی کیٹیگری اپڈیٹ کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔